حضرت فاطمہؓ جنت کی ملکہ

حضرت فاطمہؓ جنت کی ملکہ

خاموش آواز

کوثر کی ڈائری (گھر کے کام)

تحریر: بنتِ حسام الدین

آمنہ منّے کو کپڑے بدلاتے ہوئے چونکی اور برابر میں لیٹی امّی کی طرف دیکھا۔ ان کی بند آنکھوں سے آنسووں کی لکیر بہ رہی تھی۔ وہ منے کو چھوڑ کر بے چین ہو کر بولی: امی امی کیا ہوا؟

امی نے چونک کر آنکھیں کھول دیں اور بولیں : کچھ نہیں بیٹا بس ایسے ہی ایک خیال آیا اور آنسو آگئے۔

آمنہ دوبارہ اپنے بچے میں مصروف ہوکر بولی: مجھے بھی بتائیے کیا خیال آیا۔

امی کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔ وہ بولیں: بس بیٹا کیا بتاوں۔ میرے دل میں کسی کا خیال آتا ہے۔

کس کا امی؟ کس کا خیال آتا ہے؟ آمنہ کو کھوج لگ گئی کہ آخر امی کو کون یاد آرہا ایسا کہ رو رہی ہیں۔

ایک شہزادی کا ، ایک ملکہ کا ! امی بڑے جزب سے بولیں ۔

آمنہ حیران ہو کر بولی: کون امی؟ کون شہزادی، کون ملکہ؟؟

امی نے بڑی وارفتگی سے جواب دیا: ہمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی شہزادی بیٹی حضرت فاطمہؓ اور آسمانوں میں بنی الله تعالیٰ کی سب سے قیمتی جنت کی ملکہ۔

جنت کی ملکہ کون ہیں اور وہاں کی سردار کون ہیں یہ ہم سوچتے ہی نہیں۔  بیٹا، ہم ان کے بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں جانتے ہی نہیں۔ ان کے تزکرے ہی نہیں کرتے۔ ان کی باتوں کی نقل کرنے کی سوچتے ہی نہیں کوشش تو دور کی بات ہے۔ جبکہ ہر وقت جنت میں جانے کی تمنا اور دعا کرتے ہیں۔ کیا یہ ان سے محبت ہے ؟

ایک درد بھری آہ امی کے منہ سے نکلی۔ آمنہ منے کو تھپکتے ہوئے گنگ سی رہ گئی۔

امی اس کی طرف دیکھ کر بولیں: آمنہ تم لیڈی ڈائینا کو جانتی ہو؟

ہاں امی مگر اس وقت اسکا کیا ذکر آپ حضرت فاطمہؓ کے بارے میں بتائیے نا۔ آمنہ بے چینی سے بولی۔

بیٹا جب میری شادی ہوئی تو اسی سال برطانیہ کے پرنس چارلس کی لیڈی ڈائینا سے شادی ہوئی تھی۔ لیڈی ڈائینا سے سب امپریس ہو گئے۔ بہت خوبصورت اور بہت اچھی شہزادی۔ ساری دنیا کی عورتیں اس کے عشق میں گرفتار ہوگئیں۔

اس کے جیسے بال، اس کے جیسے کپڑے، اس کے جیسے اسٹائل۔ ہر طرف اس کی تصویریں، اس کی باتیں، اس کے چرچے۔ وہ کیا کھاتی ہے کیا پہنتی ہے، کیسے رہتی ہے، کیا کرتی ہے، ہر کوئی اس کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین۔ جواس کی خبر آرہی ہے اس کے بارے میں پڑھنے کے لیے سب پاگل ہورہے ہیں۔

ہر میگزین اور اخبار سے اس کی تصاویر جمع کر رہے ہیں۔ ادھر دیوار میں لگا رہے ہیں تو  دروازے پر تو الماری پر۔

بس ہر طرف ڈائینا ڈائینا کا شور ہی شور۔

سب ڈائینا کے اسٹائل اپنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس کی نقل کی کوشش میں سب عورتیں لڑکیاں بچیاں دوڑ رہی ہیں۔ اس کا اتنا چرچا اتنا چرچا کے حد نہیں۔ امی نان اسٹاپ بولے گئیں۔ اور آمنہ گنگ سی ان کا منہ تکتی رہی۔

امی دو منٹ چپ رہ کر پھر گویا ہوئیں: اور پھر ڈائینا مرگئی۔ اس کی کہانی ختم ہو گئی۔ وہ مٹی مٹی ہو گئی۔ وہ اس دنیا کی شہزادی تھی۔ ایک غیر مسلم شہزادی جس پر مسلمان عورتیں بھی فدا تھیں۔

تو بیٹا، میری جان مجھے الله پاک کی قیمتی جنت کی ملکہ کا خیال آتا ہے جو الله کے محبوب نبیؐ کی شہزادی بیٹی ہیں۔ اور مرنے کے بعد اس جنت میں جانے کی ہر مسلمان عورت کی تمنا ہے۔

مگر اس ملکہ نے اس دنیا میں کیسے زندگی گزاری یہ کوئی نہیں جاننا چاھتا۔ وہ کیسے رہتی تھیں، کیا کرتی تھیں، کیسے کپڑے پہنتی تھیں، کیا کھاتی تھیں، کیا پیتی تھیں۔ ہمیں چاھت ہی نہیں ہوتی کے اس بارے جاننے کی کوشش کریں۔  اس دنیا کی شہزادی اور اگلے جہاں کی ملکہ کے اسٹائل اپنا لیں۔ تا کہ کچھ تو دل میں یقین سا بیٹھے کہ ہم بھی اس ملکہ کی جنت میں جگہ پالینے کے اہل میں ہوں۔ وہ جو تمام مسلمان جنتی عورتوں کی ملکہ ہیں۔

امی چپ ہو کر خلا کو تکنے لگیں جیسے جنت کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ اور آمنہ حیرت سے سرخ آنکھیں لیے جیسے سکتے میں آگئی۔ کہ واقعی آج تک اس نہج پر تو سوچا ہی نہیں۔

بیٹا آمنہ، ہم بھلا ان کی کیا نقل کرسکتے ہیں۔ان کی تو نماز میں قراءت ایسی ہوتی تھی کہ وہ رو رو کر الله پاک سے فریاد کرتی تھیں کہ یا الله رات اتنی چھوٹی ہے کے میری دو رکعات بھی پوری نہیں ہوئی اور فجر ہو گئی۔ہم تو ان کی جیسی نماز نہیں پڑھ سکتے۔

ان کے جیسے نذر کے روزے نہیں رکھ سکتے۔ کہ صرف ایک روٹی افطاری پر اور وہ بھی دے دی۔ تین دن کے روزے اور ایک دن مسکین کو کھلا دیا دوسرے دن یتیم کو کھلا دیا اور تیسرے دن قیدی کو روٹی دے دی۔ اس واقعے پر تو الله نے ان کے لیے آیتیں نازل فرمائیں۔ کاش مجھے قرآن حفظ ہوتا تو میں ابھی سناتی۔ یہ ہیں ہم مسلمان عورتوں کی شہزادی اور ملکہ۔  

ان کے جیسا پردہ ہم نہیں کرسکتے۔ حتیٰ کہ ان کی طرح فاطمی تسبیح بھی نہیں پڑھ سکتے کہ اتنی آسان چیز بھی وقت پر بھول جاتے ہیں۔ 

امی کے مسلسل بہتے آنسو ان کا دوپٹہ گیلا کرتے رہے۔ امی پھر بولیں: بیٹا تو بتاو ہمیں کس کی نقل کرنی چاہیے۔ سوچو بیٹا۔ اور کچھ نہیں تو کوئی ان سے محبت کا جزبہ تو ہو، کوئی ارادہ کوئی نیت  کچھ تو ہو انکا اسٹائل اپنانے کے لیے۔

آمنہ امی کی باتوں سے اپنی منے کو بھی بھول گئی۔ اس کی آنکھیں بھی مسلسل بہہ رہی تھیں۔

امی آنسووں بھری آواز میں دوبارہ گویا ہوئیں: بیٹا میں نے تو اپنی امی کے گھر جھاڑو پوچھا لگانا سیکھا تھا۔ بچپن سے دیکھا میری بڑی بہنیں گھر کے کام کرتی تھیں۔ پھر ایک وقت آیا کے میں کرنے لگی۔ کالج یونیورسٹی جھاڑو پوچھا لگا کر جاتی تھی۔

اب بیٹا میں سوچتی ہوں کے یہی کام ان کی نقل میں کر لوں۔ کہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول الله نے کاموں کو تقسیم کر دیا تھا۔ گھر کے کام دو جہاں کے بادشاہ کی شہزادی کے ذمہ تھے اور باہر کے کام حضرت علیؓ کے ذمہ تھے۔ تو بیٹا میں سوچتی ہوں کہ شہزادی بیٹی کے لیے گھر کے کاموں کہہ دینے کا مطلب ہوا کہ تمام امت کی بیٹیوں کے لیے کہہ دیا۔

اصل میں بیٹا یہ کام شہزادیوں کے کرنے کے ہیں، ماسیوں کے کرنے کے نہیں ہیں۔ کاش ہم اس کی حقیقت پہچانتے۔ کاش ہم گھر کے کاموں سے محبت کرتے۔ تو ہمارے گھر یہیں جنت بن جاتے۔

اور بیٹا ہم تو یہ کام بھی ان کی نقل میں کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ انکے تو ہاتھوں میں گٹے پڑ جاتے۔ اور سینے میں رسی کے نشان پڑ گئے تھے۔ اور باقی کاموں سے کپڑے گرد آلود رہتے تھے۔ وہ اتنے سخت کام تھے۔ اور ہم تو کتنے آرام اور سکون والے کام کرتے ہیں۔

آمنہ بیٹا تم سمجھ رہی ہو میری بات؟ امی کے سوال سے آمنہ چونک گئی۔ اور امی کے گلے لگ کر ایک عجیب جزبے سےبولی: جی امی، بہت اچھی طرح سے سمجھ گئی۔

Leave a Reply

Close Menu